اقسام کلام (فوری تلاش)

سیر گلشن کون دیکھے دشت طیبہ چھوڑ کر | علامہ حسن رضا خاں بریلوی

شاعر
مجموعۂ کلام
کلام نمبر: 1
تعداد اشعار: 11

سیر گلشن کون دیکھے دشت طیبہ چھوڑ کر

سوئے جنت کون جائے در تمہارا چھوڑ کر

سر گزشت غم کہوں کس سے ترے ہوتے ہوئے

کس کے در پر جاؤں تیرا آستانہ چھوڑ کر

بے لقائے یار ان کو چین آ جاتا اگر

بار بار آتے نہ یوں جبریل سدرہ چھوڑ کر

کون کہتا ہے دل بے مدعا ہے خوب چیز

میں تو کوڑی کو نہ لوں ان کی تمنا چھوڑ کر

مر ہی جاؤں میں اگر اس در سے جاؤں دو قدم

کیا بچے بیمار غم قرب مسیحا چھوڑ کر

کس تمنا پر جئیں یارب اسیران قفس

آ چکی باد صبا باغ مدینہ چھوڑ کر

بخشوانا مجھ سے عاصی کا روا ہوگا کسے

کس کے دامن میں چھپوں دامن تمہارا چھوڑ کر

خلد کیسا نفس سرکش جاؤں گا طیبہ کو میں

بد چلن ہٹ کر کھڑا ہو مجھ سے رستہ چھوڑ کر

ایسے جلوے پر کروں میں لاکھ حوروں کو نثار

کیا غرض کیوں جاؤں جنت کو مدینہ چھوڑ کر

حشر میں ایک ایک کا مونھ تکتے پھرتے ہیں عدو

آفتوں میں پھنس گئے ان کا سہارا چھوڑ کر

مر کے جیتے ہیں جو ان کے در پہ جاتے ہیں حسنؔ

جی کے مرتے ہیں جو آتے ہیں مدینہ چھوڑ کر

تشریح کلام

نوٹ: یہ مواد اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا ہے، اس میں غلطی کا امکان ہے۔
PRESENTED BY SOZOSAAZ.COM