کربلا کے جاں نثاروں کو سلام
فاطمہ زہرا کے پیاروں کو سلام
مصطفٰے کے ماہ پاروں کو سلام
نوجوانوں گل عذاروں کو سلام
کربلا تیری بہاروں کو سلام
جاں نثاری کے نظاروں کو سلام
یا حسین ابن علی مشکل کشا
آپ کے سب جاں نثاروں کو سلام
اکبر و اصغر پہ جاں قربان ہو
میرے دل کے تاجداروں کو سلام
قاسم و عباس پر ہوں رحمتیں
کربلا کے شہسواروں کو سلام
جس کسی نے کربلا میں جان دی
ان سبھی ایمانداروں کو سلام
بھوکی پیاسی بیبیوں پر رحمتیں
بھوکے پیاسے گل عذاروں کو سلام
بھید کیا جانے شہادت کا کوئی
ان خدا کے رازداروں کو سلام
بے بسی میں بھی حیا باقی رہی
سب حسینی پردہ داروں کو سلام
رحمتیں ہوں ہر صحابی پر مدام
اور خصوصاً چار یاروں کو سلام
بیبیوں کو عابد بیمار کو
بے کسوں، غم کے ماروں کو سلام
ہو گئے قرباں محمد اور عون
سیدہ زینب کے پیاروں کو سلام
کربلا میں ظلم کے ٹوٹے پہاڑ
جن پہ ان سب دلفگاروں کو سلام
آل و اصحاب نبی کے جس قدر
چاہنے والے ہیں ساروں کو سلام
یا خدا! اے کاش! جا کر پھر کروں
کربلا کے سب مزاروں کو سلام
تین دن کے بھوکے پیاسے آپ کی
یا نبی! آنکھوں کے تاروں کو سلام
جو حسینی قافلے میں تھے شریک
کہتا ہے عطارؔ ساروں کو سلام