شاعری اور شرعی احتیاطیں
شاعری انسانی جذبات، احساسات اور تخیلات کے اظہار کا ایک نہایت مؤثر اور لطیف ذریعہ ہے۔ جب خیالات کو روایتی بحروں، اوزان اور قوافی کی کڑی پابندیوں کے ساتھ ایک خاص عروضی ساخت میں ڈھالا جاتا ہے، تو الفاظ کی تاثیر اور دلکشی کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔
فنِ عروض اور شاعری بلا شبہ ایک عظیم کمال ہے، لیکن چونکہ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، اس لیے جہاں اس نے انسان کے دیگر افعال و اقوال پر حدود عائد کی ہیں، وہیں فنِ شاعری کے لیے بھی واضح شرعی اصول اور احتیاطیں مقرر کی ہیں تاکہ یہ فن معاشرے کی تعمیر و اصلاح کا سبب بنے، نہ کہ تخریب و گمراہی کا۔
قرآنِ مجید کی روشنی میں شاعری کا مقام
قرآنِ مجید نے شاعری کو مطلقاً مسترد نہیں کیا بلکہ اس کے مواد اور مقصد کی بنیاد پر اس کی درجہ بندی کی ہے۔ قرآنِ مجید کی 26ویں سورت کا نام ہی سورۃ الشعراء (شاعروں کی سورت) ہے۔ اس سورت کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے بے مقصد اور مبالغہ آمیز شاعری کرنے والوں کی مذمت کی، لیکن فوراً بعد حق پرست اور بامقصد شاعروں کو استثناء بھی عطا فرمایا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَالشُّعَرَاءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ * أَلَمْ تَرَ أَنَّهُمْ فِي كُلِّ وَادٍ يَهِيمُونَ * وَأَنَّهُمْ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ * إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَذَكَرُوا اللَّهَ كَثِيرًا وَانْتَصَرُوا مِنْ بَعْدِ مَا ظُلِمُوا وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنْقَلَبٍ يَنْقَلِبُونَ [سورۃ الشعراء: 224-227]
ترجمہ کنز الایمان: “اور شاعروں کی پیروی گمراہ کرتے ہیں۔ کیا تم نے نہ دیکھا کہ وہ ہر نالے میں سرگرداں پھرتے ہیں۔ اور وہ کہتے ہیں جو نہیں کرتے۔ مگر وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور بکثرت اللہ کی یاد کی اور بدلہ لیا بعد اس کے کہ ان پر ظلم ہوا اور اب جانا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔”
احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں شاعری کے اصول
شاعری کے حسن و قبح کے حوالے سے احادیثِ مبارکہ میں بھی ہمیں یہی واضح رہنمائی ملتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شاعری کو فی ذاتہٖ برا نہیں فرمایا، بلکہ اسے اس کے پیغام اور مقصد کی کسوٹی پر پرکھا ہے، جیسا کہ درج ذیل احادیث سے بخوبی واضح ہوتا ہے:
بامقصد اور حقائق پر مبنی شاعری کی افادیت بیان کرتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دانائی کا حصہ قرار دیا ہے، چنانچہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إِنَّ مِنَ الشِّعْرِ حِكْمَةً. [صحيح البخاري، رقم الحديث: 6145]
ترجمہ: “بلاشبہ بعض اشعار حکمت و دانائی پر مبنی ہوتے ہیں۔”
دین کے دفاع اور کلمۂ حق کی سربلندی کے لیے کہی جانے والی شاعری پر اللہ کی غیبی مدد شاملِ حال ہوتی ہے، اس حوالے سے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ لِحَسَّانَ مِنْبَرًا فِي الْمَسْجِدِ، يَقُومُ عَلَيْهِ قَائِمًا يُفَاخِرُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ يُنَافِحُ، وَيَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ يُؤَيِّدُ حَسَّانَ بِرُوحِ الْقُدُسِ مَا يُفَاخِرُ أَوْ يُنَافِحُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. [جامع الترمذي، رقم الحديث: 2855]
ترجمہ: “رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجدِ نبوی میں حضرت حسان رضی اللہ عنہ کے لیے ایک منبر رکھواتے تھے۔ حضرت حسان اس پر کھڑے ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے (کفار کے مقابلے میں) فخر بیان کرتے یا آپ کا دفاع کرتے تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ روح القدس (حضرت جبریل علیہ السلام) کے ذریعے حسان کی مدد فرماتا ہے، جب تک وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے فخر بیان کرتے ہیں یا دفاع کرتے ہیں۔”
البتہ جو شاعری انسان کو اس حد تک غافل کر دے کہ اس کے دل و دماغ پر غالب آجائے، اس کی سخت مذمت بیان کی گئی۔ جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا. [صحيح البخاري، رقم الحديث: 6154]
ترجمہ: “اگر تم میں سے کسی شخص کا پیٹ پیپ سے بھر جائے تو یہ اس کے لیے اس بات سے بہتر ہے کہ وہ شعروں سے بھر جائے۔”
اسی طرح فحش اور بے حیائی پر مبنی اشعار کہنے والے کے عمل کو بے کار اور رائیگاں قرار دیا گیا۔ چنانچہ حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
مَنْ قَالَ فِي الْإِسْلَامِ شِعْرًا مُقْذِعًا فَلِسَانُهُ هَدَرٌ. [شعب الإيمان للبيهقي، رقم الحديث: 5088]
ترجمہ: “جس شخص نے اسلام میں فحش اور بے ہودہ اشعار کہے، تو اس کی زبان رائیگاں (اور ناکارہ) ہے۔”
شاعری اور پاسِ شریعت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کی نظر میں
امامِ اہلِ سنت، مجددِ دین و ملت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ کا شمار ان نابغۂ روزگار ہستیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے خود کمال درجے کی شاعری کی، اور اسے شریعت کے کڑے اصولوں کا پابند بھی بنایا۔ آپ رحمۃ اللہ علیہ کا شہرۂ آفاق نعتیہ دیوان “حدائقِ بخشش” عروضی بحروں کی پختگی اور شرعی احتیاط کا عظیم ترین شاہکار ہے۔
نعت گوئی کوئی عام صنفِ سخن نہیں بلکہ یہ ایک عظیم اور نازک ترین عبادت ہے۔ اس کی نزاکت کے حوالے سے اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کا مشہور ارشاد ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت میں منقول ہے:
“حقیقتاً نعت شریف لکھنا نہایت مشکل ہے جس کو لوگ آسان سمجھتے ہیں، اس میں تلوار کی دھار پر چلنا ہے۔ اگر بڑھتا ہے تو اُلوہیت میں پہنچ جاتا ہے اور کمی کرتا ہے تو تنقیص (یعنی شان میں کمی و گستاخی) ہوتی ہے۔ البتہ حمد آسان ہے کہ اس میں راستہ صاف ہے، جتنا چاہے بڑھ سکتا ہے۔ غرض حمد میں ایک جانب اصلاً حد نہیں اور نعت شریف میں دونوں جانب سخت حد بندی ہے۔” [ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت، ص: 227]
اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک شاعری شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے بارگاہِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں عقیدت پیش کرنے کا نام ہے۔ اپنے مشہورِ زمانہ قصیدۂ معراجیہ کے اس شعر میں آپ رحمۃ اللہ علیہ اسی بے نیازانہ عشق اور پابندیِ شریعت کی خوبصورت ترجمانی فرماتے ہیں:
ثنائے سرکار ہے وظیفہ، قبولِ سرکار ہے تمنّا
نہ شاعری کی ہَوَس نہ پروا رَوِی تھی کیا کیسے قافیے تھے
یہاں آپ رحمۃ اللہ علیہ نے واضح فرما دیا کہ ہمارا کام تو محض ثنائے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا وظیفہ پڑھنا اور بارگاہِ رسالت سے شرفِ قبولیت پانا ہے۔ فنِ شاعری کے لوازمات اہم ضرور ہیں، مگر نعت گو کی نظر ہمیشہ شرعی حدود پر ہونی چاہیے تاکہ قافیہ ملانے کی ہوس میں ادب اور شریعت کے دائرے سے قدم باہر نہ نکل جائے۔
اب اگر کسی کے ذہن میں یہ سوال ابھرے کہ شریعت کی اتنی سخت پابندیوں کے ساتھ کلام میں فنی حسن اور چاشنی کیونکر برقرار رہ سکتی ہے؟ تو اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ اس کا جواب اپنے مخصوص اور پُر اعتماد انداز میں یوں دیتے ہیں:
جو کہے شعر و پاسِ شرع، دونوں کا حُسن کیوں کر آئے
لا اسے پیشِ جلوۂ زمزمۂ رضا کہ یُوں
یعنی جو شخص یہ کہے کہ شعر کا فنی حسن اور پاسِ شریعت ایک جگہ کیسے جمع ہو سکتے ہیں، تو اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اسے کلامِ رضا لا کر دکھا دو کہ کس طرح ہم نے شریعت کی مکمل پاسداری کے ساتھ ساتھ کلام کے حسن اور عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی چاشنی، دونوں کا کمال درجے میں خیال رکھا ہے۔
شاعری کی اسی شرعی حیثیت اور اس کے حسن و قبح پر فتاویٰ رضویہ میں سیر حاصل بحث کرتے ہوئے اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں:
“شعر کی نسبت حدیث میں فرمایا: وہ ایک کلام ہے جس کا حسن، حسن اور قبیح، قبیح یعنی مضمون پر مدار ہے۔ اگر اچھا ذکر ہے، شعر بھی محمود اور برا تذکرہ ہے تو شعر بھی مذموم۔ بحور، عروض پر موزوں ہو جانا خواہی نخواہی قبحِ کلام کا باعث نہیں اگرچہ اس میں انہماک و استغراقِ تام متکلم کے حق میں شرع کو ناپسند ہے۔۔۔ سیدی عارف باللہ امام الطریقین شیخ الشیوخ شہاب الحق والدین سہروردی قدس سرہ العزیز فرماتے ہیں:
مَا كَانَ مِنْهُ (يَعْنِي مِنَ الشِّعْرِ) فِي الزُّهْدِ وَالْمَوَاعِظِ وَالْحِكَمِ وَذَمِّ الدُّنْيَا وَالتَّذْكِيرِ بِآلَاءِ اللَّهِ وَنَعْتِ الصَّالِحِينَ وَصِفَةِ الْمُتَّقِينَ وَنَحْوِ ذَلِكَ مِمَّا يَحْمِلُ عَلَى الطَّاعَةِ وَيُبْعِدُ عَنِ الْمَعْصِيَةِ مَحْمُودٌ.
یعنی ہر وہ شعر اچھا ہے جو زہد، وعظ، حکمت، دنیا کی مذمت، اﷲ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد دلانے والا یا صالحین و متقین کی صفت و تعریف وغیرہ پر مشتمل ہو، جو انسان کو اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت پر ابھارتا ہے یا گناہ سے دور کرتا ہو۔” [فتاویٰ رضویہ، جلد: 29، ص: 592-593]
اسی تسلسل کو آگے بڑھاتے ہوئے، خلیفۂ اعلیٰ حضرت، صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ اپنی مشہورِ زمانہ کتاب “بہارِ شریعت” میں شاعری کے حوالے سے شریعت کا نقطہ نظر نہایت جامع انداز میں یوں بیان فرماتے ہیں:
“اگر اﷲ و رسول کی تعریف کے اشعار ہوں یا ان میں حکمت کی باتیں ہوں، اچھے اخلاق کی تعلیم ہو تو اچھے ہیں، اور اگر لغو و باطل پر مشتمل ہوں تو برے ہیں، اور چونکہ اکثر شعرا ایسے ہی بے تکی ہانکتے ہیں، اس وجہ سے ان کی مذمت کی جاتی ہے۔ جو اشعار مباح ہوں ان کے پڑھنے میں حرج نہیں، اشعار میں اگر کسی مخصوص عورت کے اوصاف کا ذکر ہو اور وہ زندہ ہو تو پڑھنا مکروہ ہے، اور مر چکی ہو یا خاص عورت کا ذکر نہ ہو تو پڑھنا جائز ہے۔ شعر میں لڑکے کا ذکر ہو تو وہی حکم ہے جو عورت کے متعلق اشعار کا ہے۔” [بہارِ شریعت، حصہ: 16، ص: 514]
شرعی اصول و احتیاطیں
احادیثِ مبارکہ اور فقہی عبارات کے مطالعے سے فنِ شاعری کے حوالے سے درج ذیل زریں شرعی اصول اور احتیاطیں سامنے آتی ہیں:
- پاکیزگیِ مضامین: کلام فحش گوئی، لغویات اور کسی مخصوص زندہ عورت یا امرد کے حسنِ ظاہر کے تذکرے سے یکسر پاک ہو، بلکہ اس کی اساس حکمت، اخلاقِ حسنہ، وعظ و نصیحت اور حمد، نعت، منقبت جیسے مضامین پر استوار ہو۔
- نعت گوئی کی نازک حد بندی: دربارِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں نذرانہ پیش کرتے وقت اس درجہ احتیاط لازم ہے کہ نہ تو عقیدت میں اُلوہیت کی جھلک آئے اور نہ ہی شانِ اقدس میں ذرہ برابر تنقیص و بے ادبی کا کوئی پہلو نکلے۔
- فنی تکلفات پر پاسِ شریعت کی برتری: محض قافیہ پیمائی یا شہرتِ سخنوری مقصود نہ ہو، بلکہ کلام کا ظاہری حسن اور فنی کمال ہمیشہ شریعت کے کڑے اصولوں اور ادب کا تابع رہے۔
- خلوصِ نیت اور دفاعِ حق: شاعری کا اصل مطمحِ نظر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں شرفِ قبولیت پانا اور دین کا دفاع ہو، کہ ایسے بامقصد کلام پر تائیدِ غیبی بھی شاملِ حال رہتی ہے۔
- غلبۂ شعر اور غفلت سے گریز: فنِ شاعری انسان کے حواس پر اس قدر غالب نہ آ جائے کہ وہ یادِ الٰہی اور اپنے بنیادی دینی فرائض کی ادائیگی سے ہی غافل ہو کر رہ جائے۔
حرفِ آخر
الغرض ایک مسلمان شاعر کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے کلام کے ظاہری حسن، فنی نزاکتوں اور عروضی پابندیوں پر جتنی محنت کرتا ہے، اس سے کہیں بڑھ کر اسے اپنے کلام کی شرعی حیثیت اور معنوی پاکیزگی کی فکر کرنی چاہیے۔ الفاظ خواہ کتنے ہی دلفریب اور بحریں کتنی ہی پختہ کیوں نہ ہوں، اگر وہ شریعت کی ترازو پر پورے نہ اتریں تو ان کی کوئی وقعت نہیں۔ حقیقی اور بامقصد شاعری وہی ہے جو قلوب کو بیدار کرے، روح کو جلا بخشے، اور ہمیشہ شریعتِ مطہرہ کے روشن اصولوں کے تابع رہے۔