ٹیگز

جدید

دیار عشق میں تابندگی حسین سے ہے | منقبت در شان عالی امام حسین رضی اللہ عنہ | مولانا ابو حسان نیاز احمد عطاری مدنی

شاعر
مجموعۂ کلام
کلام نمبر: 1
تعداد اشعار: 14

دیارِ عشق میں تابندگی حسین سے ہے

فنا کے قَصر میں بھی روشنی حسین سے ہے

حسیں ہے کتنی یہ نسبت کہ ہے حسین کی ذات

نبی کی ذات سے، ذاتِ نبی حسین سے ہے

ہیں شجرۂ نَبَوی کی یہی تو دو شاخیں

کہ اک حسن سے ہے تو دوسری حسین سے ہے

جو خِلق و خُلق میں خالق نے خیرِ خَلق سے دی

مشابہت کی وہ منظر کشی حسین سے ہے

بقائے دین کی خاطر کٹا دیا سر کو

نبی کے دین کی پائندگی حسین سے ہے

حسین نے تو شہادت کا جام نوش کیا

فرات ہی کی رہی تشنگی حسین سے ہے

لہو سے سینچ کے گلشن کو کردیا شاداب

بہارِ زیست کی یہ تازگی حسین سے ہے

ہے ذکر سورۂ کوثر میں جو ”هُوَ الْأَبْتَر“

لقب ہے اُس کا جسے دشمنی حسین سے ہے

عدو تو ہوگا ہی رسوائے دو جہاں! آخِر

فلاحِ دنیوی و اُخروی حسین سے ہے

جو مشکلوں میں کہا یا حسین اِبنِ علی

تو مشکلوں کو بھی مشکل پڑی حسین سے ہے

حسینیوں کی سرِ بابِ خلد ہوگی صدا

نہ روکو ہم کو اجازت ملی حسین سے ہے

حسین والا ہوں بچپن سے؛ میری ماں نے مجھے

ہمیشہ گھٹّی میں الفت ہی دی حسین سے ہے

یہ سوز و ساز، یہ طرزِ بیاں، یہ ذوقِ سخن

ردیف، قافیہ، حرفِ رَوِی حسین سے ہے

نیازؔ ان کے غلاموں کا بھی غلام ہوں میں

کچھ اس طرَح مری وابستگی حسین سے ہے

تشریح کلام

نوٹ: یہ مواد اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا ہے، اس میں غلطی کا امکان ہے۔
PRESENTED BY SOZOSAAZ.COM