ورفعنا لک ذکرک کا ہے سہرا تیرا
غلغلہ زندۂ جاوید ہے دولہا تیرا
ہر گھڑی پچھلی گھڑی سے ہے فزوں تر تیری
کیا گھٹا پائے زمانہ کبھی چرچا تیرا
کوثر شیریں تری ملک میں دے کر پیارے
ابتر دہر عدو کو کرے مولا تیرا
مژدہ ہے تم کو فترضیٰ کا اے نازوں پالے
دو جہاں دولت بے پایاں کا ذرہ تیرا
تری پیزار پہ قربان جمال عالم
جوہر ذات ہے عقلوں کو معما تیرا
تجھ پہ ہر آن نئی جان لٹائے جاؤں
عفو! حق اس سے کہیں بڑھ کے کریما تیرا
تجھ سے اظہار محبت میں ملے قید اگر
پھر تو کچھ کام میں آئے یہ نکما تیرا
تیری ناموس پہ زنداں کی سلاخیں ہی نہیں
تختہ دار بھی چومے گا یہ بندہ تیرا
پیارے! شہباز کو قدموں سے لگائے رکھنا
غیر کا دست نگر نہ رہے پالا تیرا
تشریح کلام
نوٹ: یہ مواد اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا ہے، اس میں غلطی کا امکان ہے۔
PRESENTED BY SOZOSAAZ.COM