ٹیگز

جدید

حمد رب مصطفیٰ سے ابتدا | مثنوی عطار | امیر اہل سنت مولانا الیاس عطار قادری | Urdu Lyrics

شاعر
مجموعۂ کلام
کلام نمبر: 3
تعداد اشعار: 17
0

حمد رب مصطفٰے سے ابتدا

ہو درود امی نبی پر دائما

اس جہاں میں ہر طرف ہیں مشکلیں

ہر جگہ ہیں آفتیں ہی آفتیں

کچھ گھرے غم میں تو کچھ بیمار ہیں

تو کئی قرضے کے زیر بار ہیں

ہیں بہت کم لوگ دنیا میں سکھی

اکثر افراد اس جہاں میں ہیں دکھی

چل دیے دنیا سے سب شاہ و گدا

کوئی بھی دنیا میں کب باقی رہا!

جیتنے دنیا سکندر تھا چلا

جب گیا دنیا سے خالی ہاتھ تھا

لہلہاتے کھیت ہوں گے سب فنا

خوش نما باغات کو ہے کب بقا؟

تو خوشی کے پھول لے گا کب تلک؟

تو یہاں زندہ رہے گا کب تلک؟

دولت دنیا کے پیچھے تو نہ جا

آخرت میں مال کا ہے کام کیا؟

مال دنیا دو جہاں میں ہے وبال

کام آئے گا نہ پیش ذوالجلال

رزق میں برکت کی تو ہے جستجو

آہ! نیکی کی کرے کون آرزو!

مت لگا تو دل یہاں پچھتائے گا

کس طرح جنت میں بھائی جائے گا؟

لندن و پیرس کے سپنے چھوڑ دے

بس مدینے ہی سے رشتہ جوڑ لے

دل سے دنیا کی محبت دور کر

دل نبی کے عشق سے معمور کر

اشک مت دنیا کے غم میں تو بہا

ہاں نبی کے غم میں خوب آنسو بہا

ہو عطا یارب! ہمیں سوز بلال

مال کے جنجال سے ہم کو نکال

یا الٰہی! کر کرم عطارؔ پر

حب دنیا اس کے دل سے دور کر

تشریح کلام

نوٹ: یہ مواد اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا ہے، اس میں غلطی کا امکان ہے۔
PRESENTED BY SOZOSAAZ.COM