جانِ جناں و رونقِ گلزار آگئے
آج آمنہ کے گھر شہِ ابرار آگئے
ظاہر ہوا وہ جلوۂ صورت جناب کا
قدسی بھی لینے صدقۂ رخسار آگئے
ارض و سماں، زمان و مکاں یک زبان ہیں آج
خَلّاقِ کائنات کے شہکار آگئے
مہرِ سماں، ستارے، قمر اور کہکشاں
خیرات لینے نور سے انوار آگئے
یہ رسمِ عاشقی ہے ادا اس کو کیجیے
دیدہ و دل بچھائیے، دلدار آگئے
میلاد کی سہانی گھڑی آ گئی، چلو
نعرے لگاؤ جھوم کے سرکار آگئے
دامن پسارے مانگ لو جو مانگنا ہے آج
اللہ کے خزانوں کے مختار آگئے
برسے گی آج بارشِ انوار، اے عبیدؔ
لو کھول کے وہ گیسوئے خمدار آگئے
تشریح کلام
نوٹ: یہ مواد اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا ہے، اس میں غلطی کا امکان ہے۔
PRESENTED BY SOZOSAAZ.COM
