آسماں پر ہر نظر ہے، کیسا نکلا چاند ہے
عیدِ میلادِ محمد مصطفیٰ کا چاند ہے
ظلمتِ کفر و جہالت کا ہے سینہ چاک چاک
تیرگیِ دہر میں، نکلا خدا کا چاند ہے
کہہ دو دامن کو سمیٹیں کفر کی تاریکیاں
آمنہ بی بی کے گھر، نکلا خدا کا چاند ہے
ایک طرف تھا بدرِ کامل، ایک طرف طیبہ کا چاند
عشقِ جابر نے کہا، طیبہ کا ستھرا چاند ہے
خانہِ تاریک میں جب مسکرایا آپ نے
عائشہ خاتون نے سمجھا کہ نکلا چاند ہے
ہر طرف ہے وجد کا منظر، اے رضوی زندہ باد
بارہویں کی صبح نکلا، آمنہ کا چاند ہے
تشریح کلام
نوٹ: یہ مواد اے آئی کی مدد سے تیار کیا گیا ہے، اس میں غلطی کا امکان ہے۔
PRESENTED BY SOZOSAAZ.COM
